دستاویز برائے زمرہ 'ایمانیات'
مجھے ہے حکمِ اذاں، لا الٰہ الا اللہ
مصنف باسم بتاریخ 29, November 2007 – 11:15 pm ۔اللہ، اللہ، اللہ، کیا ہی شیریں کلمہ، کیا ہی عمدہ نام ہے اور جس ذات کا یہ نام ہے اس کی بڑائی کا بھی کیا کہنا، بولنے میں یہ کلمہ شیریں، کانوں میں رس گھولنے والا، دل کو محبوب، دھڑکن سے ملا ہوا، موجودات میں پنہاں، دلوں میں منقوش، ضمیر میں جاگزیں اور خون میں رچا بسا ہوا ہے۔
اسی اللہ تعالٰی کے نام سے ہم ابتداء کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں، اسی کی پناہ طلب کرتے ہیں، اسی کی عظمت کی دہائی دیتے ہیں، اسی کی بڑائی سے ہم ایمان کی مضبوطی حاصل کرتے ہیں، اسی کی صفات کو ہم محبت سے بیان کرتے ہیں اور اس کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم درود بھیجتے ہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ذات ہے جس نے ہمیں اللہ تعالٰی کی طرف بلایا اور اللہ تعالٰی کی معرفت سے ہمیں سرفراز کیا، اللہ تعالٰی تک پہنچنے کی راہ دکھلائی اور ہمیں سکھلایا کہ کیسے اللہ تعالٰی کی تعریف بیان کریں، لہٰذا ان ہی کا ارشاد ہے کہ “تمہارا رب ثنا کو پسند کرتا ہے۔”
انسان کی پیدائش، اس کی گویائی اور اس کا علم، اللہ تعالٰی کی تعریف بیان کرنے، اس کی بزرگی بیان کرنے، اس کی تسبیح اور اس کا ذکر کرنے ہی کیلیے تو ہے۔
اس سے زیادہ مستحقِ تعریف کون ہوسکتا ہے، اس سے بڑھ کر قابلِ مدح کون ہوسکتا ہے؟
اور اس سے بڑھ کر لائقِ بزرگی کون ہوسکتا ہے؟ ( ہرگز ہرگز کوئی بھی نہیں ہوسکتا )۔
( شرح اسمائے حسنٰی ۔ اللہ )
زمرہ ایمانیات کے تحت شائع ہوا | 6 تبصرے »


