جنونیوں کا میوزیکل جہاد
مصنف باسم بتاریخ 26, May 2008 – 11:30 pm ۔ہندوستان کے زیرتسلط کشمیر میں آزادی کے متوالوں کے خون سے رنگین جھیل ڈل کے کنارے اتوار ۲۵ مئی کی شام پاکستان کے مشہور گویّوں کے جتھے ’جنون‘ کے ایک ‘جنونی’ سلمان احمد نے فرنگیوں کے حلیے میں بھارتی حکومت کی ایماء پر اپنے گٹار سے میوزیکل جہاد کا مظاہرہ کیا۔
یہ جہاد کس کے حق میں اور کس کے خلاف تھا اور جہاد جیسے مقدس اسلامی فریضہ کی توہین کرنے اجازت انہیں کس نے دی؟ اس کی وضاحت تو موصوف نے نہیں کی لیکن اگر اس کا پس منظر دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے۔
جنون کے پروگرام کے خلاف کشمیر یونیورسٹی کے طلباء نے بائیکاٹ کی کال دی تھی اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں سرگرم تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے پاکستانی حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ جنون بینڈ کو کشمیر میں کنسرٹ کی اجازت نہ دیں کیونکہ “یہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا”۔
اس کے جواب میں سلمان نے ایک پریس کانفرنس میں جہاد کونسل کے سربراہ اور حزب المجاہدین کے کمانڈر سید صلاح الدین کو ’میوزیکل جہاد‘ کی دعوت دی۔
کشمیر کے حریت پسند راہنماؤں میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی نے بھی اس پر گہری ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اس پر احتجاج کیا ہے اور اسے پاکستان کی کشمیر پر کمزور پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے
میر واعظ نے کہا اس سے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور سید علی گیلانی نے کہا پاکستانی میوزک گروپ نے شہداء کی سرزمین پر نظریۂ پاکستان کی توہین کی ہے۔ قابض بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں بے گناہوں کا قتل عام، نسل کشی اور خواتین کی عضمت دری جیسے جنگی جرائم کررہی ہے اور دوسری جانب پاکستان سے ناچنے گانے والے کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے آگئے ہیں۔
زمرہ پاکستان کے تحت شائع ہوا |




August 5th, 2008 at 11:00 am
مینٹل ہیں جنون والے۔۔۔ حرکتوں سے ثبوت دے رہے ہیں اتنے سال سے پر کوئی غور نہیں کرتا۔