نامعلوم سمت سے موت کے پروانے

مصنف باسم بتاریخ 17, March 2008 – 11:24 pm ۔

حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ پچھلے چند دنوں سے نامعلوم سمت سے موت کے پروانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس میں درجنوں قبائلیوں کی ہلاکت ہوئی ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں
اب جبکہ نئی حکومت بن رہی ہے اور دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے بہتری لانے کا عندیہ دے چکی ہیں تو وہ کون سے قوتیں ہیں جو حالات کو خرابی کی طرف لے جانا چاہتی ہیں؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے عناصر کی گرفت کی جائے اور ساتھ ہی ایسی چھوٹی غلطیوں سے بچا جائے جیسی حال ہی میں سیکورٹی فورسز سے صادر ہوئی کہ ایک کار پر فائرنگ کردی گئی جس میں عورتیں اور بچے بھی سوار تھے اور فائرنگ سے ایک عورت ہلاک ہوگئی۔


زمرہ پاکستان کے تحت شائع ہوا |


2 تبصرے برائے 'نامعلوم سمت سے موت کے پروانے'

  1. جہانزیب لکھتے ہیں:

    جب کسی قوم میں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے والے پیدا ہو جائیں اور اس قوم کے حکمران امن و امان سے زیادہ لوٹ کھسوٹ اور اپنی حفاظت کے انتظامات میں مصروف ہوں تو ایسے پروانے آ ہی جاتے ہیں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہم میں اتنی جرات بھی نہیں کہ پروانے بھیجنے والوں سے اختجاج کر سکیں ۔

  2. م۔م۔مغل (شاعر ، افسانہ نگار، مصور، خطاط، کالم نگار) لکھتے ہیں:

    جناب باسم صاحب
    آداب
    معذرت خواہ ہوں کہ مجھے یہاں آنے میں تاخیر ہوگئی۔
    بہر کیف حسبِ وعدہ حاضر ہوں۔
    معاملہ یہ ہے کہ من حیث القوم ہم مسلسل پستی میں گرتے جارہے ہیں۔
    حکمران عیاشیوں اور عوام ہر معاملے میں چوری چکاری میں مصروف ہیں۔ ایسی صورتحال میں موت کے پروانے نامعلوم سمت سے ہی آتے ہیں۔
    عجیب نفسانفسی کا عالم ہے ہم خود ہی ایک دوسر کو لوٹ کھسوٹ رہے ہیں۔ بس دعا ہی کی جاتی ہے کہ پروردگار ہمیں عقل و شعور عطا فرمائے۔

    نیاز مند
    م۔م۔مغل

تبصرہ لکھیے