بھٹو اور اسلامی کاز
مصنف باسم بتاریخ 11, January 2008 – 8:35 am ۔رعایت اللہ فاروقی کے کالم سے اقتباس
“ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آیا تھا جب انہوں نے اپنے سیکولر نظریات سے صرفِ نظر کرکے ایک عین اسلامی کاز کیلیے قدم اٹھایا۔ بھٹو مرحوم نے خود بیان کیا ہے کہ قادیانیت کو سرکاری طور پر کفر کا حصہ قرار دینے کے لئے برپا ۱۹۷۴ء کی تحریک کو میں محض ایک سیاسی تحریک سمجھتا تھا مگر ایک شام آغا شورش کاشمیری مرحوم ملنے آئے اور قادیانیت کے حوالے سے دلائل دیتے دیتے اچانک صوفے سے اٹھے اور میرے قدموں میں آ بیٹھے۔ انہوں نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ کہا “مسٹر بھٹو! خدا کا واسطہ میں آپ سے حضرت فاطمۃ الزھرا کے بابا کی ناموس ختم نبوت کے تحفظ کی بھیک مانگتا ہوں” بھٹو کہتے ہیں اتنا عظیم آدمی جسے تحریک آزادی کے دوران انگریز جھکا سکے تھے اور نہ ہی بعد میں ایوب خان کی طویل آمریت۔ وہ یوں میرے قدموں میں بیٹھ کر رویا تو میں کانپ اٹھا اور اسی لمحے فیصلہ کرلیا کہ قادیانیوں کو پارلیمنٹ سے کافر قرار دلوا کر ہی چھوڑوں گا۔
ایسا ہی ایک لمحہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں بھی آکر گزرا ہے، مگر چپ چاپ۔ سیاسی کوچوں کا رواج ہے کہ اس کا بہت کچھ رازداریوں کی نذر کرنا ضرورت بن جایا کرتا ہے۔ آج وہ نہیں ہیں تو بیان کرنے میں حرج نہیں کہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ۲۰۰ سے زائد مجاہدین کی زندگیوں کو جس طرح انہوں نے تحفظ مہیا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا وہ ایک ناقابل فراموش واقعہ ہی نہیں بلکہ ایسا احسان ہے جسے یادوں سے کھرچنا ممکن نہیں۔”
(روزنامہ امت اتوار ۳۰ دسمبر ۲۰۰۷)
زمرہ پاکستان کے تحت شائع ہوا |



January 12th, 2008 at 12:26 pm
یہ بی بی والا کونسا واقعہ ہے؟
May 11th, 2008 at 6:08 pm
بھٹو صاحب سوشلسٹ نظریات کے حامل تھے ان کے دور میں اس طرح کے فیصلے کی کوئ توقع نہیں تھی، یہ واقعی ان کا کارنامہ ہے۔ فاطمہ الزہرا کے بابا کے ناموس کی خاطر شورش کاشمیری بھٹو صاحب کے قدموں میں بیٹھ گئے۔ آہ
اس واقعے نے تو رلادیا